کیا منہ کے جراثیم، گٹھیا کی وجہ بنتے ہیں؟کیا آپ جاننا چاہتے ہیں

کیا منہ کے جراثیم، گٹھیا کی وجہ بنتے ہیں؟کیا آپ جاننا چاہتے ہیں

 

ایمسٹرڈیم: ولندیزی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گٹھیا کی ابتدائی علامات اور گٹھیا کا تعلق ہمارے منہ میں دو اقسام کے جرثوموں کی زیادہ تعداد سے ہوسکتا ہے۔

 

 

اگر آئندہ تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوگئی تو پھر صرف لعابِ دہن (تھُوک) میں جرثوموں کی جانچ پڑتال کرکے جہاں دوسری بیماریوں کی تشخیص ممکن ہوگی، وہیں کسی فرد کے گٹھیا میں مبتلا ہونے کے امکانات و خدشات کا بروقت پتا چلایا جاسکے

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گٹھیا کے مریضوں میں منہ اور پیٹ کے بیکٹیریا، دوسرے

صحت مند افراد سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

 

سی تحقیق کو آگے بڑھانے کےلیے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی، ہالینڈ کے طبّی ماہرین نے 150 رضاکار بھرتی کیے جن میں سے 50 بالکل

صحت مند تھے، 50 میں گٹھیا کی ابتدائی علامات نمودار ہوچکی تھیں لیکن ابھی وہ اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے، جبکہ باقی 50 رضاکار گٹھیا کے مریض تھے۔

تمام رضاکاروں کے منہ سے لعابِ دہن کے نمونے لے کر ان میں جرثوموں (بیکٹیریا) کی اقسام اور مقدار کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ

گٹھیا کی علامات والے افراد اور گٹھیا میں مبتلا مریض، دونوں کے لعابِ دہن میں ’’پریووٹیلا‘‘ (Prevotella) اور ’’ویلونیلا‘‘ (Veillonella) قسم کے جرثوموں کی مقدار، صحت مند افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔

 

بیکٹیریا کی یہ دونوں اقسام جلن اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ گٹھیا کے مریض اور اس کی علامات والے افراد کی زبان کے گرد بھی ویلونیلا جرثومے بہت بڑی تعداد میں کسی تہہ کی مانند موجود تھے۔

 

اس تحقیق سے اگرچہ گٹھیا اور منہ میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے درمیان تعلق مزید واضح ہوا ہے لیکن اب بھی پریووٹیلا اور ویلونیلا جرثوموں کو گٹھیا کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس مقصد کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

اگر آئندہ تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوگئی تو پھر صرف لعابِ دہن (تھُوک) میں جرثوموں کی جانچ پڑتال کرکے جہاں دوسری بیماریوں کی تشخیص ممکن ہوگی، وہیں کسی فرد کے گٹھیا میں مبتلا ہونے کے امکانات و خدشات کا بروقت پتا چلایا جاسکے گا۔

گٹھیا کی بروقت یا قبل از وقت تشخیص سے اس بیماری کا علاج بھی زیادہ بہتر طور پر کیا جاسکے گا۔

نوٹ: یہ تحقیق آن لائن ریسرچ جرنل ’’آرتھرا

 

 

 

 

Comments are closed.